ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی نے بھی اس اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی کامیابیوں کا ذکر کرنےکے ساتھ ساتھ ضروری توانائي کے ذرائع میں تنوع لانے کے سلسلے میں ایران کے مواقف کی بھی وضاحت کی۔
فریدون عباسی نے سینٹ پیٹرز برگ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے جدید ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر پر مبنی ایران کے منصوبے کی خبردی۔ فریدون عباسی نے کہا کہ ایران کا پروگرام بوشہر ایٹمی بجلی گھر میں ایک ہزار سے ایک ہزار دوسو میگاواٹ تک کے چار ری ایکٹرز کی تعمیر تھا ۔ جن میں سے ایک ری ایکٹر کام کررہا ہے جبکہ دو ری ایکٹروں کی تعمیر کا پلان تیار کیا جاچکا ہے۔
توانائي کی ضروریات پوری کرنے کے سلسلے میں ایٹمی توانائي ہی ممالک کا سب سے بہترین منصوبہ ہے۔ اس سلسلے میں ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام بجلی کی فراہمی اور لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے مقاصد کے تحت جاری ہے۔
ایران اپنی ضروریات کے مطابق ایٹمی ایندھن تیار اور یوریئینم افزودہ کر رہا ہے۔ جیسا کہ فریدون عباسی نے سینٹ پیٹرز برگ [Saint Petersburg]میں کہا ہے ایران یورینیئم کی افزودگی کا اپنا پروگرام جاری رکھے گا۔
اس وقت ایران ساڑھے تین فیصد تک یورینیئم افزودہ کررہا ہے جس سے اپنے ایٹمی بجلی گھروں کے ایٹمی ایندھن کی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران بیس فیصد تک افزودہ یورینیئم بھی تیار کر رہا ہے۔ جسے تہران کے میڈیکل اور تحقیقاتی ری ایکٹر کے ایندھن کی تیاری کے لۓ استعمال کرتا ہے۔
تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر کے لۓ اس وقت جس ایٹمی ایندھن کو استعمال کیا جارہا ہے اسے ایرانی ماہرین ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی نگرانی میں تیار کر رہے ہیں۔
عصر حاضر میں ایٹمی ٹیکنالوجی ملت ایران کے لۓ ایک اہم قابل فخر علمی کارنامے میں تبدیل ہوچکی ہے۔ تمام تر سازشوں حتی ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود ایران کے ایٹمی ماہرین اور سائنسدانوں کے ہاتھوں ایٹمی ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن [Localization] حالیہ برسوں کے دوران ایک ایسا قابل فخر راستہ ہے جو ملت ایران نے عملی ترقی و پیشرفت کے لۓ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ طے کیا ہے۔
ایران کے ایٹمی توانائی کے ادراے نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کی نگرانی میں قم کی فردو سائٹ میں یورینیم کی افزودگي کی تنصیبات میں ایٹمی فیول سائيکل کے منصوبے پر عملدرآمد کے ساتھ ثابت کردیا ہے کہ ایران ایٹمی ٹیکنالوجی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور وہ یورینیم کی افزودگي کے سلسلے میں دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ پروجیکٹس کو عملی جامہ پہنانے کی توانائي رکھتا ہے۔ ایرانی ماہرین کی انہی توانائیوں کے پیش نظر ایران کی ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ نے سینٹ پٹرز برگ اجلاس میں ایٹمی بجلی کے منصوبوں مین ایران کی شرکت اور تعاون پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
چھ سال قبل اپریل سنہ دو ہزار سات میں ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کی نگرانی میں نطنز کی ایٹمی تنصیبات میں سنٹری فیوجز کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کیا تھا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے ساتھ ایران نے ایک اہم علمی کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ برس ایران میں تیارکی جانے والی سنٹری فیوجز کی نئی نسل کا نطنز کی سائٹ میں افتتاح ہوا ۔ ایران سنہ انیس سو اٹھاون میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا رکن بنا اور سنہ انیس سو سڑسٹھ میں اس نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کۓ تھے۔ لیکن یورپ بے بنیاد دعووں کے ساتھ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی غلط تصویر پیش کر کے اسے خطرہ ظاہر کررہاہے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپ اس کوشش میں ہے کہ ایران کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن [Localization] کی اتنی زیادہ قیمت چکانا پڑے کہ ایٹمی ترقی و پیشرفت خود ایران کے لۓ ایک خطرے میں تبدیل ہوجائے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ یورپ کو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے سلسلے میں ایران کی ترقی و کامیابی کو تسلیم کر لینا چاہۓ۔ ایران کی ایٹمی ترقی و پیشرفت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملت ایران دھمکیوں، خطرات اور پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کرنا اور پرامن مقاصد کے لۓ پوری قوت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن رہنا جانتی ہے۔
.......
/169